گڑهے کے خوف میں
کهائ میں گر گئے
تنکوں کے خوف میں
طوفاں میں گهر گئے
شعلے کے خوف میں
آتش میں جل گئے
انساں بنے تهے ہم
کیوں شیطاں بن گئے
جنت کے راہی تهے
دنیا میں کهو گئے
شاہ
گڑهے کے خوف میں
کهائ میں گر گئے
تنکوں کے خوف میں
طوفاں میں گهر گئے
شعلے کے خوف میں
آتش میں جل گئے
انساں بنے تهے ہم
کیوں شیطاں بن گئے
جنت کے راہی تهے
دنیا میں کهو گئے
شاہ
میری زندگی کی ابتداء
تمہیں کیا خبر تمہیں کیا پتہ
آواز ہے آواز کا
لمحہ لمحہ کهو گیا
جو مجهے پکارتی ہوا
آغوش میں پل کو سما
جوہیں رنگ وبومیں سوگئے
اس دن کو لوٹا دو زرا
شاہ .....